اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے لبنان دورے کے دوران علماء مزاحمت عالمی یونین کے سیکرٹری جنرل شیخ "ماہر حمود" سے صیدا میں ملاقات کی۔
آیت اللہ رمضانی نے اس ملاقات میں علمائے مزاحمت عالمی یونین کی مزاحمتی محاذ کے تئیں حمایتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ہم مزاحمت کی راہ میں آپ کی شاندار سرگرمیوں کی قدردانی کرتے ہیں۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلام جارحیت کے خلاف موقف اختیار کرتا ہے اور وہ انصاف پر مبنی موقف رکھتا ہے، انہوں نے مزید کہا: "مغرب نے اسلام کو تبدیل کرنے اور اس میں اپنے خیالات کو شامل کرنے کی کوشش کی اگر ان کی کوشش کامیاب ہو جاتی تو کوئی مذہبی انقلاب رونما نہ ہوتا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: "الحمد للہ، ایک دینی انقلاب برپا ہوا اور ایک نیا نظریہ پیش کیا گیا"۔ امام خمینی (رہ) نے دنیا کے سامنے دو نکات پیش کئے۔ پہلا، اسلام کا حکومتی پروگرام ہے۔ کیونکہ اسلام کے بہت سے احکام خودمختاری کے بغیر ممکن نہیں اور نافذ بھی نہیں ہوں گے۔ دوسرا، جدیدیت کے دور میں بھی اسلامی حکومت بنائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بین الاقوامی میدان میں داخل ہو کر مغرب کو ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کی بنیاد پر حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب اور مزاحمت 40 سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ پھیل چکی ہے۔ مزاحمت کا جغرافیہ بیشتر ممالک میں پھیل چکا ہے اور اسلام کے اہم ترین مسائل اور اسلامی تصورات کو فکری طور پر نئے سرے سے متعین کیا گیا ہے اور آج ہم اسلام کی مقداری اور معیاری ترقی کا سامنا کر رہے ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: آج مسلمان رہنماؤں کو پہلے سے زیادہ اسلامی اتحاد کو فروغ دینے کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور اتحاد کا مسئلہ امت اسلامیہ کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہونا ضروری ہے۔ " اگر اسلامی ممالک سیاسی اور اقتصادی معاملات میں متحد ہو جائیں تو وہ دنیا کی ایک بڑی طاقت ہوں گے اور دشمن کو مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے دشمنان اسلام کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ریاض، تل ابیب اور واشنگٹن کی مذموم ٹرینگل نے اسلام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔"
آیت اللہ رمضانی نے شیخ "ماہر حمود" کو دورہ ایران کی دعوت دیتے ہوئے کہا: اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی تقریب مذاہب پر یقین رکھتی ہے۔ میں اتحاد پر یقین رکھتا ہوں، جیسا کہ امام خامنہ ای اسلامی اتحاد پر قائل ہیں، اور اتحاد کا مسئلہ عالم اسلام کی ضرورت ہے۔
ملاقات کے آغاز میں شیخ "ماہر حمود" نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران نے انقلاب کے آغاز سے ہی مسئلہ فلسطین کو فراموش نہیں کیا ہے۔ اور وہ اس راہ میں ثابت قدم رہا اور کمزور نہیں ہوا۔ نہ اقتصادی ناکہ بندی، نہ سازشیں اور نہ ہی کوئی اور چیز ایران کو فلسطین کی حمایت سے روک سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا: دیگر ممالک میں مزاحمت ایران میں مزاحمت کے راستے کا تسلسل ہے اور عماد مغنیہ، راغب حرب، قاسم سلیمانی وغیرہ جیسے عظیم شہداء مزاحمت کی راہ میں شہید ہوئے ہیں۔
..........
242